Nation for PeaceReligion for Peace

Adverse Impact of Separatism on Muharram in Kashmir

Word For Peace

شکیل شمسی

muharram in Kashmirایک زمانہ تھا کہ کشمیر میں محرم بہت شاندار طریقے سے انجام پاتا تھا۔ وہاں کا وزیر اعلیٰ جلوس ذوالجناح میں بہ نفس نفیس شامل ہوتا تھا اور ذوالجناح کی لگام پکڑکر کچھ دور چلتا تھا۔ کشمیر میں علاحدگی پسند تو اس وقت بھی موجود تھے مگر انہوں نے اس وقت اپنی تحریک کو اسلام اور مذہنی رسومات سے الگ رکھا تھا۔ اس وقت کشمیر کی جد وجہد کشمیریت کے نام پر چل رہی تھی مگر جب اس میں کامیابی نہیں ملی تو پاکستانیوں کی کوششوں سے اس تحریک کو اسلام سے جوڑ دیا گیا۔ کشمیر کے سادہ لو ح مسلمانوں کو بتایا جانے لگا کہ تمہاری فلاح صرف پاکستان کے ساتھ الحاق کے ذریعہ ممکن ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں کو بتایا گیا کہ سرحد کے اس پار پاکستان نام کی ایک جنت ہے جس کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کرکے جیتے جی جنت میں پہنچ جاؤگے۔

جب کشمیر میں پاکستان نوازی اور علاحدگی پسندی نے اسلام کا لبادہ اڑھ لیا تو پھر مسجدوں میں جوشیلی تقریریں ہونے لگیں، خطبات میں شہادت اور قربانی کی گفتگو ہونے لگی او رمذہبی مقامات میں سیاسی اجتماعات ہونے لگے، جس کے بعد احتجاجی مظاہروں، جلسوں اور جلوسوں کی جگہ گن کلچر عام ہوگیا۔

اس پوری تحریک کا اثر کشمیر کے محرم پر بھی پڑا اور جس طرح مسجدوں اور خانقاہوں کی تقریبات علاحدگی پسندوں کی نذر ہوگئی تھیں اسی طرح امام باڑے اور حسینیہ بھی علاحدگی پسندوں کے نرغے میں گھر گئے۔ محرم کے جلوسوں میں یا حسین کی صداؤں کے بجائے آزادی کے نعرے لگنے لگے، نوحہ او رمرثیہ کی جگہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے والی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ جلوسہائے غزا جو بہت پر امن طور پر نکلا کرتے تھے اچانک متشدد ہوگئے اور پولیس کے ساتھ ماتم داروں کا ٹکڑاؤ شروع ہوگیا۔جب محرم کے جلوسوں کو علاحدگی پسندوں نے پوری طرح ہائی جیک کرلیا تو 1989 ء میں حکومت کو محرم کے جلوسوں پر پابندی لگانا پڑی۔ اس وقت مرکز میں کانگریس کی اور جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت تھی، یعنی یہ پابندی کسی فرقہ پرست حکومت نے نہیں لگائی تھی بلکہ سیکولرازم پر یقین رکھنے والی پارٹیوں نے لگائی تھی۔ پھر بھی محرم کے ایام میں لوگ ہر سال جلوسوں پر لگی پابندیوں کو توڑ کر ہاہر آتے رہے او رکئی بار کرفیوں کی خلاف ورزی کرکے بھی ماتم داروں نے جلوس نکالا او رپولیس کی جانب سے ہونے والے سخت لاٹھی چارج کا سامنا کیا۔

اس سال وہاں کی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہے اور سارا انتظام مرکزی حکومت کے زیر کنٹرول ہے۔ اس بار کشمیر کے عوام نے علماء کے توسط سے مرکزی حکومت سے بار بار اپیل کی کہ ان کو محرم کے موقع پر جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے، حالانکہ بی جے پی کی حکومت سے اس کی امید نہیں تھی مگر مرکزی حکومت نے محرم کے جلوسوں کو کورونا کی وجہ سے محدود پیمانے پر نکالنے کی اجازت دے دی، جس کے نتیجے میں وادی کے کئی علاقوں میں جلوس نکلنے لگے، ظاہر ہے کہ یہ بات علاحدگی پسندوں کو کیسے پسند آسکتی ہے؟ اس لئے ہند مخالف عناصر اور پاکستان کے حامیوں نے جلوسوں کوملک مخالف مظاہروں میں تبدیل کرناشروع کردیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا پولیس اورفوج سے ٹکراؤ ہونے لگا۔

خاص بات یہ ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کو پاکستان میں بیٹھا ایک ملا بہت بھڑکا رہا ہے۔ اس ملا کی تقریریں آگر آپ سنیں تو معلوم ہوتا کہ یہ محرم کی مجلس نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ آئی ایس آئی کی لکھی ہوئی ہند مخالف کوئی داستان سنا رہا ہے۔

اس مولوی کا کام صرف یہی رہ گیا ہے کہ وہ کربلا کے معرکہ کا ذکر کرنے کے بجائے ہندوستان کے مسلم علماء کو گالیاں دیتا ہے۔ آپ اس کی زبان سے پاکستان میں ہونے والے مظالم کے بارے میں کبھی ایک لفظ نہیں سنیں گے۔ وہاں سیکڑوں نوجوانوں کو پولیس اٹھا کر لے گئی لیکن کسی کا آج تک کوئی پتہ نہیں چلا۔پاکستانی عوام نے دھرنا دیا مظاہرہ کیا مگر لاہور میں بیٹھا یہ ملا اپنے حجرے سے باہر نہیں نکلا۔ اب کشمیر کے نوجوانوں کو لاہور میں بیٹھ کر بھڑکا رہا ہے۔ واضح ہوکہ یہ ملا پاکستان کے مہاجر علماء اور واعظین کے خلاف بھی مسلسل زہر انگلتا رہتا ہے پاکستان پر اردو کی جگہ پنجابی کلچر تھوپے جانے کی وکالت کرتا ہے اور رات دن ہندوستان کے خلاف زہر اگلتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مولوی پاکستانی حکومت کا وظیفہ خور ہے او راس بات پر مامور ہے کہ وہ ہندوستان کے مسلم نوجوانوں کو گمراہ کرے۔

بلوچستان کے مسلمانوں پر لاکھ مظالم ہوں مگر یہ مولوی اپنی زبان نہیں کھولتا، مگر ہندوستانی مسلمانو ں کا غم اس کو کھائے جاتاہے۔ بہر کیف ہمارا تو یہی کہنا ہے کہ کشمیر ی علاحدگی پسند چاہے جتنی ہنگامہ آرائی پاکستان کے بہکاوے میں آکر کریں، مگر کم سے کم مذہبی تقریبات اور مذہبی مقامات کو تو بخش دیں۔

ویسے خاص بات یہ ہے کہ کشمیر سے جوویڈیوز آئے ہیں ان میں ہنگامہ آرائی کرنے والے چند ہی لوگ دکھائی دے رہے ہیں اور بقیہ شرکاء اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم کے جلوسوں کو ہائی جیک کرنے کے لئے پاکستان نے اپنے ایجنٹوں کو میدان میں اتارا ہے۔

بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی 19/08/2021

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published.

CAPTCHA ImageChange Image

Back to top button
Translate »