Urdu

Dimensions of Social Activism in the life of Chishti saints

(1)حیات مشائخِ چشت میں سماجی بہبود کی جہات

تصوف اور صوفیہ :
نبی رحمت ﷺ سے قبل کی تاریخ کسی ایسے پیغمبر ، مصلح یاقائد کو پیش کرنے سے قاصر ہے جس نے عالمی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے مشن کو ایک منظّم تحریک کی شکل دینے کے لئے کارکنوں کی باقاعدہ تربیت کی ہو۔ یہ شرف و فخر صرف اسی مبشرونذیر اوررحمۃ للعالمین کی صفات کی حامل شخصیت کو حاصل ہےجنہوں نے تیرہ سال تک مکہ مکرمہ کے دار ِ ارقم میں اورپھر ہجرت کے بعد مسجد نبوی کے صفہ نامی چبوترے میں انسانوں کی ایک ایسی جماعت کی تشکیل کی جس کا ہر ہر فرد کسی نہ کسی میدان ِ عمل کا متخصص ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھنے والا بھی تھا۔ ان میں سے ہر فرد بلا قیدرنگ و نسل ہر عمل کا مرد ِ میدان تھا ، اس پر مستزاد یہ کہ وہ نگاہِ نبوت کی زیر نگرانی ڈھل کر تیار ہونے والےدرحقیقت ایسے عظیم اور پاکباز رجال کار تھےجن پر “خلیفۃ اللہ” کی اصطلاح صحیح معنوں میں صادق آتی ہے۔ رسالت مآب ﷺ نے اپنی کیمیا ساز نگاہ ِ نبوت سے دار ِ ارقم اور صفہ کی درسگاہوں میں فیض پانے والوں میں تزکیہ نفس وتقوی اور توصیہ بالحق والصبر کے ذریعے ایسی صفات سے متصف شخصیات تیار کر دیں جو بمثل پارس تھیں ۔ جو بھی ان کی صحبت میں آتا گیا وہ کندن بنتا گیا۔ یہ تربیت اور سیرت سازی کا ایک سلسلہ تھا جو خیر القرون کے گزرنے اور خلافت ِ راشدہ کی جگہ ملک عضوض ( کاٹ کھانے والی بادشاہت) کے آ جانے کے بعد ختم ہونے کے قریب تھا ۔ نظام مصطفی ﷺ کے پروردہ و تربیت یافتہ ابوذرو صہیب اور بلال و سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مثالیں جب مفقود ہونے لگیں تب حکمت ِخداوندی نے اس نظام کو بقاء اور دوام عطا کرنے کے لئے صلحائے امت کا ایک ایسا گروہ پیدا فرمایا جسے صوفیہ کے نام سے تلقی بالقبول نصیب ہوئی۔ یہ لوگ تخت ِ شاہی کے کروفر سے بے نیاز ہونے کے ساتھ ساتھ علم و عمل کا مکمل نبوی نمونہ تھے ۔ اتباع ِ شریعت ان ہستیوں کا راس العین تھا۔مجاہدہ نفس ، اصلاح ِ امت اور خدمت خلق ان کے لیے میدان عمل تھا ۔ اعلائے کلمۃ اللہ ان کا نعرہ اور راہ ِ حق میں جاں سپاری ان کا مطلوب و مقصود تھا۔

:تصوف اور صوفیہ
جب قال ، حال میں اور علم ، عمل میں ڈھل جائے ، شریعت اور طریقت میں تضاد کی بجائے توازن پیدا ہو جائے اور انسان کی زندگی سمٹ کر ایک نقطہ پر مرتکز ہو جائے یعنی عرفان ِ خودی سے معرفت ِ ذات ِ حقیقی کے سفر کو تصوف کہتے ہیں۔ تصوف ہی وہ علم ہے جس میں نہ صرف معرفت نفس اور ذات و صفات باری تعالیٰ کی پہچان سے متعلق تدبر و تفحص ہوتا ہے بلکہ اس میں ایسے اعمال و اشغال کا بھی ذکر کیا جاتا ہےجن کے ذریعے تزکیہ و تصفیہ ءباطن کے راستے وصول الی اللہ کی راہیں کشادہ ہو سکیں۔تصوف ،قرآن و سنت سے نکلی ہوئی ایک ایسی شاہراہ ہے جو افراط و تفریط کے عین درمیان واقع ہے۔ اسی کو صراط مستقیم کا نام دیا جاتا ہے ۔ وہ صراط مستقیم کہ جس کے راہی کو منزل ِ مقصود تک پہنچنے کی ضمانت بارگاہ ِ الوہیت سے عطا ہوئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَ الَّذِیۡنَ جَاھَدُوۡا فِیۡنَا لَنَھدِیَنَّھُمۡ سُبُلَنَا )
(اور جو (بلند ہمت) مصروف جہاد رہتے ہیں ہمیں راضی کرنے کے لیے ،ہم ضرور دکھا دیں گے انھیں اپنے راستے)
تصوف ،اکتساب و وہبیت اور ظاہر و باطن کا حسین امتزاج ہے۔ اسلام اور ایمان جب انتہا کو پہنچتے ہیں تو احسان و تصوف کے دَر واہوتے ہیں۔اسی وجہ سے امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من تفقہ ولم یتصوف فقد تفسق ومن تصوف ولم یتفقہ فقد تزندق ومن جمع بینہما فقد تحقق
“یعنی جس نےبغیر علم تصوف کے فقہ کو سیکھا تو وہ فاسق ہے اور جس نے بغیر فقہ کے تصوف حاصل کیا تو وہ زندیق ہے اور جس نے دونوں کو جمع کیا وہ شخص حقیقت تک پہنچنے والاہے”۔
حدیث جبرئیل میں؛
ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانّہ یراک                                                                                                                    (احسان یہ ہے ) کہ تو اللہ کی بندگی اس ایقان سے کرے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے ۔ پس اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ یقین رکھ ، بے شک وہ تجھے دیکھ  رہا ہے “۔
امام العرفاء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جملے سے احسان وتصوف کی پوری حقیقت بیان فرمادی ہے کیونکہ مجاہدہ نفس، ذکر وفکر، محاسبہ و مراقبہ وغیرہ کا منشاء و مقصود یہی ہے کہ دل مشاہدہ و حضور کی متاعِ عزیز سے ہم کنار ہوجائے۔جہالت (عدم معرفت ِ الٰہی )اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کبار صوفیہ اپنے دور کے نامور صاحبان ِ علم تھے۔ تصوف ، اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال ہے۔ مشائخ متقدمین کی نظر میں تصوف ایک اخلاقی پروگرام کا نام تھا۔ جس میں نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے اخلاق کی درستی کونصب العین قرار دیا جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت محمد بن علی بن امام حسین بن علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھم کا فرمان ہے:
التصوف خلق فمن زاد علیک فی الخلق زاد علیک فی التصوف
تصوف ، اخلاق سے عبارت ہے ، جو اخلاق میں جتنا عالی مرتبہ ہو گا ، وہ اتنا ہی بڑا صوفی ہو گا”۔”
حضرت شیخ ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فرمان ہے:
لیس التصوف رسوما ولا علوما ولکنہ اخلاق
(تصوف، رسم و رواج اور مختلف قسم کے علوم کی فنی موشگافیوں کی بجائے مکارم اخلاق کا نام ہے”۔۔۔۔(جاری ہے۔”

دعا جو

سعید احمد سعیدی
انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز، پنجاب یونیورسٹی لاہور

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

CAPTCHA ImageChange Image

Back to top button
Translate »