EnglishNation for PeaceUrdu

J&K UT: “Khelo India” (Play India!) gave a positive message, but more work is needed! کھیلو انڈیا” کامثبت پیغام”

A major positive impact of the "Khelo India" sports competition in J&K UT is seen in the development of the tourism sector and nowadays local, national and international tourists can be seen at every tourist destination in Kashmir.

WordForPeace.com 

A major positive impact of the “Khelo India” sports competition in J&K UT is seen in the development of the tourism sector and nowadays local, national and international tourists can be seen at every tourist destination in Kashmir.

“Khelo India” (Play India!) gave a positive message, but more work is needed!

Obviously, with the arrival of tourists in Kashmir, the tourism sector can get back on track and as a result, the faltering economy can be enhanced and supported.  Since Kashmir’s economy is largely dependent on tourism, the increase in tourist arrivals is definitely a source of relief and people associated with the tourism industry are thriving these days because of the large number of tourists here today.  Enjoying the scenery, it looks like the tourist season will be here throughout June this year…………

The maximum number of medals in the second edition of the “Khelo India” Winter national Games that concluded at Gulmarg, in J&K.

“Khelo India” (Play India!) gave a positive message, but more work is needed!

They won 11 gold, 18 silver and 5 bronze to finish with a tally of 34 medals. More than 1000 athletes from various parts of the country participated in the mega five-day event of Khelo India. It was reported that in the union territory of J&K plans to build 40 sports centres in 20 districts……

کھیلو انڈیا سرمائی  کھیل مقابلہ: مثبت پیغام تو گیا لیکن مزید  کام کی ضرورت……
کھیلو انڈیا قومی سرمائی کھیلوں کا دوسرا مرحلہ شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔
دوسرے ایڈیشن میں ملک بھر سے سینکڑوں کھلاڑیوں نے مختلف سرمائی کھیلوں میں حصہ لیکر اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا اور صرف داد سمیٹی بلکہ میڈل اورٹرافیاں بھی جیت گئے ۔ اطمینان بخش امر ہے کہ جموں کشمیر نے بھی اس ایونٹ میں مختلف کھیلوں میں انتہائی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اپنا بلکہ پورے جموں کشمیر کا نام روشن کر دیا ۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس میگا ایونٹ میں جس طرح منتظمین نے اعلی سہولیات دستیاب رکھی تھیں ، وہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و شیرقومی سطح کے مقابلوں کی میزبانی کیلئے کمل طور تیار ہے ۔ اس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جموں کشمیر کو سرمائی کھیلوں کا مرکز بنایا جائے گا اور یہاں ترقی وخوشحالی کے ایک نئے دور کا آغار کیا جائے گا کھیلو انڈیا سریائی کھیلوں کے اس مقابلے میں کس ریاست نے کتے میڈل جیتے ، ان اعداد وشمار سے قطع نظر مقابلہ اپنے آپ میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کوڑ بحران کے پس منظر میں کیا یہ مقابلہ منعقد کیا گیا اور میزبانی کا شرف جموں وکشمیر کوحاصل ہوا ۔ ظاہر ہے کہ کشمیر میں اس طرح کے قومی سطح کے مقابلوں سے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت پیغام جاتا ہے کہ جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے ۔ یہ شاید ایک مقابلے کی تشهیرکانتیجہ تھا ک گلمرگ مسلسل دسمبر سے ہاؤس فل چل رہا ہے اور اس سیاحتی مقام کے تمام ہوٹل پندرہ اپریل تک ہک ہیں ۔ آج بھی گلمرگ میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہے اور کافی دنوں بعد گھر کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں کیونکہ اب دو برسوں سے یہاں خال خال ہی کوئی سیاح نظر آرہا تھا ۔
 “کھیلو انڈیا” مقابلے کا ایک بڑا فائدہ سیاحتی شعبہ کے فروغ کی صورت میں نظر آرہا ہے اور آج کل کشمیر کے ہر سیاحتی مقام پر مقامی، قومی اور بین الاقوامی سیاحوں کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ سیاحوں کی کشمیر آمد سے سیاحتی شعبہ پھر سے پٹری پرلوٹ سکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ڈگمگانی معیشت کوبھی سہارا مل سکتا ہے ۔ کشمیر کی معیشت چونکہ زیادہ تر سیاحت پر منحصر ہے تو سیاحوں کی آمد میں اضافہ یقینی طور پر راحت و فروانی کا باعث بن رہی ہے اور آج کل یہاں سیاحتی انڈسٹری سے جڑے لوگ ہشاش بشاش نظر آرہے ہیں کیونکہ جس تعداد میں آج سیاح یہاں کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہورہے ہیں ، اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ اس سال یہاں سیاحتی سیزن پورے جون پر ہوگا ۔ 
 
اس کے نتیجہ میں صرف لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع میسر ہو گئے بلکہ معیشت کو بھی سہارا لے گا ۔ کھیل انڈیا مقا بلے کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہاں کھیلوں کو بھی فروغ مل رہا ہے ۔ ظاہر ہے جس طرح اس ایڈیشن میں جموں وکشمیر کے کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ، اس سے کھیل وزارت نہ صرف مطمئن ہوگی بلکہ کوشش ہوگی کہ آنے والے ایڈیشنوں میں مجموں وکشمیر کے کھلاڑی زیادہ سے زیاده میڈل اس یونین ٹریٹی کیلئے سمیٹ سکیں ۔ اس کے نتیج میں کھیل سرگرمیوں کو ازخودفروغ ملے گا کیونکہ حکومت کی جانب سے بنیادی کھیل ڈھانچ میسر کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ویسے بھی یہاں کھیل انڈیا مہم کے تحت بلاک سطح پھیل ڈھائی میسر کیا جارہا ہے ۔ اب ہر بلاک میں انڈور اور آوٹ ڈور سٹیڈیم بن رہے ہیں جہاں نوجوانوں کو تمام طرح کے کھیل کھیلنے کے مواقع فراہم کئے جار ہے ہیں ۔ اگلے مرحلہ میںکھیل ڈھانپ کی فراہمی کو پنچایت سطح تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایک دفعہ جب کھیل ڈھاچمچ پانی پر میسر ہوگا تو جموں وکشمیر سے ایسے کھلاڑی پیدا ہوئے جو صرف اپنی بیوٹی بلکہ ملک کا نام بھی روشن کریں گے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جذبہ کو قائم و دائم رکھا جائے اور نوجوانوں کی توانائیوں کو یہ سمت دی جائے اور ان کی توانائی کو چیال نے کر کے ان کی ذہنی و جسمانی نشوری یقینی بنائی جائے ۔ ایک دفعہ جب ہمارا نوجوان اپنی توانائی محیح سمت میں استعمال کرے گا تو اس سے نہ صرف منشیات کی عفریت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ نوجوان نسل کو منشیات کے اتھاہ سمندر میں غرق ہونے سے بچایا جا سکے گا ۔ وقت آچکا ہے جب ارباب بست و کشاد کھیل کود کی جانب منی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جو ہمیں مختلف کھیلوں میں ہونہار کھلاڑی فراہم کرے گا جوقومی اور بین الاقوامی سطح پر جموں کشمیر اور ملک کا نام روشن کریں گے ۔
Tags
Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published.

CAPTCHA ImageChange Image

Back to top button
Translate »
Close