Uncategorized

Syed Muhammad Ashraf Participates in Dharm Sammelan organized by India TV

انڈیا ٹی وی کے دھرم سمیلن آن انڈیا ٹی وی میں سید محمد اشرف کی شرکت.

نئ دہلی 14 جون.

انڈیا ٹی-وی پر سید محمد اشرف کا انٹرویو انٹرویو

نبیرہ سرکار کلاں، شہزادہ شیخ اعظم،شیخ الہندحضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی،صدر آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ،چیرمین ورلڈ صوفی فورم کا انڈیا ٹی وی کے مادھیم سے ایک اہم انقلابی انٹر ویو
بے باک سوالات اور فکر انگیز جوابات،کا شاندار سلسلہ.
قارئین انٹرویو کا متن ملاحظہ کریں۔
افادہ عامہ کی غرض سے انٹر ویو قلم بند کرکے ہدیہ قارئین کیا جارہاہے۔

انڈیا ٹی وی کے اینکر کا سوال۔

اس وقت دیش کے بڑے صوفی سنت مولانا سیدمحمد اشرف کچھوچھوی ہم سے جڑ گئے ہیں۔مولانا صاحب آل انڈیا علماء ومشائخ بو رڈ کے فاؤنڈر چیر مین ہیں۔آتنک واد کے خلاف مہم میں آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ ایک بڑانام ہے۔مولانا سید محمد اشرف وہابی ازم اور کٹر واد کے بڑے ورودھی بھی ہیں،ان کاپریچے میں نے آپ کو دیا،مولانا پریچے کے محتاج نہیں ہیں۔مولانا اشرف صاحب!بہت بہت سواگت ہے انڈیا ٹی وی پرآپ کا۔ابھی ہم ہندو دھرم گرؤوں سے بات کررہے تھے (انھوں نے اپنا وچار رکھا ہے) دھرم الگ ہو سکتا ہے،ایشور تک پہنچنے کا راستہ بھی ایک ہی ہے۔تو کیا کرونا سے لڑنے کا راستہ بھی ایک ہی ہے؟

سید محمد اشرف کا جواب۔

بالکل۔سب سے پہلے تو میں انڈیا ٹی وی کے تمام ذمہ د اروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اورا ن کو مبارک باددیتا ہوں کہ انھوں نے ہندوستان کے سبھی دھرموں کے ذمہ دا روں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور کرونا کے تعلق سے گفتگو کی ہے۔سبھی قابل مبارک باد ہیں،یہ ایک بہت اچھی پہل ہے انڈیا ٹی وی کی۔آپ تمام حضرات اس کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔کرونا کے تعلق سے جو آپ نے سوال کیا ہے،کہ سب کا راستہ ایک ہے تو بے شک!کرونا سے لڑنے کے لیے ہم سب ایک جگہ ہیں۔اورکرونا سے لڑنے کے لیے ہمارے راستے بھی ایک ہیں۔ابھی میں کچھ دیرپہلے سن رہا تھا،وہ ذمہ دار لو گ تھے، اس موضوع پر انتہائی اہم گفتگو کیا ہے،تو ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر ایک فکر کےساتھ ایک جٹ ہو کر اس کرونا بیماری مہاماری کامقابلہ کریں۔
دیکھیے ہمارے پروفیٹ (پیغمبر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے پندرہ سو سال پہلے اس طرح کے سچویشن پر ایک فیصلہ لیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ جب کہیں پرکسی جگہ پرکوئی مہاماری پھیلی ہوئی ہو، اس طرح کی بیماری، جس نے مہاماری کی شکل اختیار کرلیا ہو۔تو اس میں آپ نے جو حل نکالاتھا وہ یہ تھاکہ وہاں کے لوگ باہر نہ نکلیں،جہاں مہاماری پھیلی ہے، وہاں کے لوگ وہیں رہیں۔ اور باہر کے لو گ جہاں مہاماری پھیلی ہوئی ہے،وہاں نہ جائیں۔جو جہا ں ہے وہ وہاں ٹھہرجائے یا رک جائے۔آج کرونا نے بھی وہی سچویشن اختیار کیاہے،اور دنیانے آج یہ فیصلہ بھی لیا گیاہے کہ جو جہاں ہے وہاں رک جائے،اپنے گھروں میں رک جائے، فیزیکل ڈسٹینسنگ کی بات کی جارہی ہے،اور یہی اس کا واحد حل ہے اور بہتر حل ہے۔ ہم کرونا جیسی مہاماری کو پھیلنے سے بچا سکتے ہیں اور خود کو اس مہاماری سے بچا سکتے ہیں۔

اینکرانڈیا ٹی وی۔

مولا نا اشرف صاحب!ہم نے دیکھاکہ جب رمضان کا وقت آیا تو لوگوں نے بہت سیئم (صبر وشکر اور برداشت)دکھا یا،گھروں پر رکے رہے،انھوں نے ساتھ میں نماز نہیں پڑھی،جب عید کی نماز آئی تو بھی ساتھ میں نمازنہیں پڑھی۔گھر پر ہی نماز پڑھی۔ایسے میں جب ہم ان لاک کی بات کررہے ہیں،اب اس ان لاک۔۱،میں عبادت کا کیا طریقہ ہو؟ ابھی بھی ویسے ہی سیئم دکھائیں،مسجدوں میں نماز پڑھنا،کیا اب ضروری ہو گیا ہے۔آگے کا طریقہ اور راستہ کیا ہو؟

مولاناسید محمد اشرف۔

دیکھیے ہمیں نارملسی کی طرف تھوڑا تھوڑا آناہی ہو گا،لیکن جس طرح سے ابھی ہم نے دومہینے پہلے لاک ڈاؤن کی حالت میں رہتے ہوئے اپنے گھروں میں وقت گزارا ہے اوربہت احتیاط کے ساتھ وقت گزارا ہے تو میں تو اس کے لیے قطعی تیار نہیں ہوں کہ ایک دم سے باہر نکل کر بھیڑ کی شکل اختیار کر لی جائے،اگر ایسا کیا جاتا ہے تو دومہینے کی محنت جو احتیاط کی گئی ہے،ان سب پر پانی پھر جائے گا۔ تو ضرورت ہے کہ آہستہ آہستہ شوشل ڈسٹینسنگ کا پوراخیال رکھتے ہوئے جس طرح سے لاک ڈاؤن۔۱اورلاک ڈاؤن۔۲کے اندر ہم شوشل ڈیسٹینسنگ کے ساتھ مسجدوں میں آئے گئے اور اپنی نمازیں ادا کیاہے،آنے والے دنوں میں بھی ہم جس طرح پہلے پانچ تھے،ابھی شوشل ڈیسٹنسنگ اور احتیاط برقرار رکھتے ہوئے اگر تھوڑی سی تعداد بڑھتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ نارملسی کی طرف لے جانے کاقدم ہو گا۔لیکن اگر اس سے یہ لگتا ہے کہ کرونا وائرس بڑھ رہاہے تو پھر اسی انداز میں واپس آنا چاہیے جس طرح ہم نے پہلے اوردوسرے لاک ڈاؤن میں وقت گزار اتھا۔

اینکر انڈیا ٹی وی۔

آپ بہت بڑے صوفی سنت ہیں دیش کے اور دیش کے بڑے صوفی سنتوں میں سے ایک ہیں،صوفی ازم کی بات کرتے ہیں،کیا اس کرونا کال میں جینے کا جو طریقہ ہو نا چاہیے، کیاصوفی ازم اس کا بھی راستہ دکھا تا ہے،اوروہ کیا ہے؟

سید محمد اشرف۔

بے شک۔دیکھیے ابھی رمضان کا مہینہ گزرا ہے۔اور رمضان کا مطلب اس میں روزہ رکھا جاتاہے۔روزے کا مطلب کیاہے؟بھوک پیاس کا احساس۔ سال میں ایک مہینہ ہم مسلمانوں کے لیے لاک ڈاؤن کامہینہ آتا ہے،رمضان کا مہینہ ہر مسلمان کے لیے لاک ڈاؤن جیسا آتاہے۔ہر ممنوع چیز سے ہم کو اپنے آپ کو روک لینا ہے۔اپنی آنکھوں کو۔اپنی زبان کو،اپنے قدموں کو،اپنے عمل کو ہر برائی سے لاک ڈاؤن کرلینا ہے یعنی روک لینا ہے۔یہ سال میں رمضان کا مہینہ ایسا ہو تا ہے کہ جس میں مسلمانوں کو لاک ڈاؤن کی پریکٹیس ہو تی ہے۔اس بار مسلمانوں نے بہت ہی سیئیم (صبر وضبط)کے ساتھ اس پورے رمضان المبارک کو گزارا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ شاید بہتر انداز میں اس بار رمضان المبارک کے مقصد کو سمجھا ہے۔کیونکہ رمضان المبارک بھوک کا احساس ہے،یہ خالی زبان سے کہنے کی چیزنہیں۔اگر عملی طور پر دیکھیں گے تو رزلٹ بالکل الگ ہو ں گے۔میں نے کئی بار رمضان کے مختلف لائیو پروگرامز میں یہ بتا یا ہے کہ ایک با ر حضرت علی کے دونوں صاحبزادگان حضرت حسن اور حضرت حسین بیمار ہوگئے،تو اس پر ان کی ماں حضرت فاطمہ زہرا نے منت مانی کہ اگر ان کے بیٹے جلد صحت یاب ہوگئے تو وہ منت کے تین روزے رکھیں گی۔چنانچہ ان کی اتباع میں حسنین کریمین اوران کے والد حضرت علی المرتضی اور ان کی باندی حضرت فضا رضی اللہ عنہم سب نے روزے رکھے۔چناچنہ پہلے روزے کی افطار کے وقت ایک مسکین آیا اور اس نے روٹی کاسوال کیا تو سب نے اپنی اپنی روٹیاں اس مسکین کو دے دیں۔دوسرے روزے کی افطار کے وقت ایک یتیم آیا اور اس نے بھی روٹی کاسوال کیا تو دوسرے دن بھی سب نے اپنی اپنی روٹیاں اٹھا کر اس یتیم کو دے دیں۔اور شان خداوندی تیسرے دن بھی ایک قیدی آگیا ور اس نے کہا اے محمد کے گھر والوایک قیدی کو کھانا کھلاؤ تو سب نے تیسرے دن بھی اپنی اپنی روٹیاں اس قیدی کو دے دیں۔اور خود تینوں دن پانی کے چند گھونٹ سے افطار کرلیا۔ان کی یہ ادا اللہ تعالی کو پسند آئی اور قرآن میں اس کا ذکر فرمایا۔

ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا،انما نطعمکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزاء ولا شکورا۔(الآیۃ)

قرآن پاک نے اہل بیت نبوت کے اسی ایثار کوبیان کیاہے۔روزے کا مقصد صحیح معنوں میں یہی ہے۔دوسروں کی بھوک پیاس کا احساس کرنا۔اور اسی انداز میں جب ہم کسی کی بھوک پیاس کا احساس کرتے ہیں اور جب ہم کسی کی ضرورت کو پوری کررہے ہوتے ہیں اور اس کی بھوک کو مٹا دیتے ہیں تو یہی ہماری عید ہوتی ہے۔ہم ہر دن روزہ رکھ سکتے ہیں اور ہر دن عید مناسکتے ہیں۔گو یا ہر دن ہمارا روزہ ہے اور ہر دن ہماری عید ہو تی ہے۔ہم ہر روز عید منارہے ہوتے ہیں۔اور ہر دن روزہ رکھ رہے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صوفیائے کرام جن کی میں نمائندگی کرتا ہوں، ہندوستان کے تمام آستانے،جو یہاں ہندوستان میں موجود ہیں،وہ پیار محبت،اوردیش کی اکھنڈتا اور ایکتا کی جہاں تعلیم دی جاتی ہے۔پیار ومحبت کی تعلیم دی جاتی ہے۔بلا تفریق مذہب وملت ایک دوسرے سے محبت کی جاتی ہے۔حقیقت میں اگرا ن آستانوں کو آپ دیکھیں گے،چاہے وہ غریب نواز کا آستانہ ہو،چاہے دہلی میں حضرت محبوب الٰہی کا آستانہ ہو، چاہے کچھوچھہ شریف میں حضرت مخدوم پاک کا آستانہ ہو،ان تمام خانقاہوں میں ایک چیز بہت کامن ملے گی،وہ لنگر کا اہتمام کرتے ہیں،لنگر اس لیے کہ ان بزرگوں نے لوگوں کی بھوک پیاس کا احساس کیا۔وہ روزانہ روزہ رکھتے ہیں،اور لوگوں کی ضرورت پوری کرکے روزانہ شام کو عید مناتے ہیں۔اس لیے انھوں نے اپنے آستانوں اور اپنے دروازوں پر لنگر کا اہتمام کیا۔اور لنگر بھی ایسا جوہر آدمی کھا سکے۔ہر مکتبہ فکر کا آدمی کھا سکے۔ہر ریلیجن کا آدمی کھا سکے۔اس لیے اس لنگر کوانھوں نے شاکا ہاری رکھا۔کہ ہر طرح کے لوگ،جسیے بھی ہوں،ان کی بھوک کا مٹانا ضروری ہے۔بھوک لگی کس کو ہے یہ دیکھنا ضروری نہیں ہے،بھوک مٹانا ضروری ہے۔اس لیے ہم خانقاہیوں کو بچپن سے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جب تمھارے پاس کو ئی آئے تو اس سے اس کا نام مت پوچھو۔اس کا دھرم مت پوچھو۔اس کی ذات مت پوچھو۔پوچھنا ہے تو یہ پوچھوکہ تمھاری کی ضرورت کیا ہے؟تمھاری حاجت کیاہے؟

اینکر این ڈی ٹی وی۔

مولانا دیکھیے جیون میں ہم کئی بار بھٹک جاتے ہیں،راستہ بھول جاتے ہیں۔دھرم کیاسکھا رہاہے؟یہ چھوٹ جاتا ہے۔اگر ہم اتنا ہی یا د رکھ لیں کہ جب ہم السلام علیکم کہتے ہیں تو سامنے والا جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتا ہے تو اس کایہ مطلب نہیں کہ وہ بس آپ کے سلام کو ایکسیپٹ کر رہاہے بلکہ وہ آپ کے لیے دعا بھی کر رہا ہے۔کہ اللہ تعالی آپ کو بھی برکت دے آپ کو بھی سیئیم رکھے،تو یہی ہمارے لیے موٹو بھی ہو سکتا ہے۔کہ اگر ہم دوسرے کے لیے سوچ لیں تو ہم کرونا کال سے نکل سکتے ہیں۔

سید محمد اشرف۔

کرنا کال سے نکلنے کے لیے ہمیں صرف اپنے آپ کو پابند کرنا ہے،اپنے آ پ کو لاک ڈاؤن کرنا ہے۔یہ کہنا بہادری نہیں ہے کہ ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ کرونا ہمیں کچھ نہیں کرے گا۔کرونا سے ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ہمیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گا۔میں فائٹ کرلوں گا۔آپ صرف اپنے بارے میں مت سوچیے۔میں اپنے دیش کی جنتا کو آ پ کے مادھیم سے بتا نا چاہوں گا کہ آپ اس انداز سے بہادری ہر گز نہ دکھائیں۔بہادری اس انداز میں دکھائیں کہ آپ کی زبان سے،آپ کے ہاتھ سے،آپ کی بات سے،آپ کے کسی عمل سے،آپ کی زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔کیونکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ جس میں،آپ بہادری دکھا تے ہوئے باہرنکلے،لاپرواہی کرتے ہوئے باہر نکلے اور لوٹ کر اپنے گھر آئے تو سب سے پہلے اور سب سے بڑاخطرہ آپ کے گھر والوں کے لیے ہے۔جس میں آپ کی ماں ہے۔آپ کا باپ ہے۔آپ کا بھائی ہے۔آپ کی بہن ہے۔آپ کی بیوی ہے۔آپ کے بچے ہیں۔آپ کی لاپرواہی سے سب سے پہلے اگر کوئی متاثر ہے تو وہ کوئی غیر نہیں،کوئی اور نہیں۔ سب سے پہلے آپ کے گھر والے، آپ کے اپنے ہیں۔لیکن اگر آپ کی سوچ ہے کہ ہماری ذات سے،ہماری زبان سے،ہمارے ہاتھ سے،ہمارے قدم سے،ہمارے کسی عمل سے،لاک ڈاؤن کے زمانے میں کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے تو اگر اس فکر اور سوچ سے خودکو لاک ڈاؤن کرلیتے ہیں۔تو پھر آپ اپنے گھر کو بھی بچانے کے لیے تیار رہیں گے۔کیونکہ آپ کی ذات سے ان کوتکلیف پہنچ سکتی تھی،پھر اگر آپ اس سوچ کے ساتھ زندہ ہیں تو آپ اپنے پڑوسی کے بارے میں سوچیں گے۔اپنے محلے کے بارے میں سوچیں گے، اپنے شہر کے بارے میں سوچیں گے۔ہر انسان کے بارے میں سوچنا عادت بن جائے گی۔تو میں چاہتاہوں کہ ہر آدمی کو یہ سوچنا چاہیے کہ میری ذات سے میرے عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے،اس اعتبار سے ہر دن ہمیں اپنے آپ کو لاک ڈاؤن میں رہنا چاہیے۔اسی سے ہم انسانیت کا خیال کرسکتے ہیں۔انسانیت کی خدمت کرسکتے ہیں۔یہی انسانیت ہے۔یہی زندگی کی کامیابی ہے۔

اینکر این۔ ڈی، ٹی وی

مولانا صاحب!آپ اتنا خوبصورت راستہ دکھا رہے ہیں،لوگوں کو دھرم پر چلتے ہوئے مانتے ہوئے،دوسروں کے لیے اچھا سوچنا،روز عید کسیے مناسکتے ہیں،روز روزہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟دوسروں کے لیے بھلائی کرکے،آتم سیئم دکھا کر۔آپ یہ ساری باتیں بتا رہے ہیں۔ایک بات یہ بتا ئیے کہ زیادہ تر لوگوں نے لاک ڈاؤن کاپالن کیا مگرکچھ لوگوں نے لاک ڈاؤن کا پالن نہیں کیا۔ویڈیوز میں دکھا کہ ادھر ادھر تھوکا۔سب نے پالن کیامگر کچھ لوگوں نے مخالفت کی۔کرونا وائرس کا اپمان کیا اور کہا کہ ہمیں کچھ نہیں ہو سکتا۔ہم کوارنٹین سینٹر میں نہیں رہیں گے۔تو یہ لوگ جو دھرم سے الگ جارہے ہیں۔ان کے لیے دھرم میں کیاہے؟

سید محمد اشرف۔

دیکھیے۔انھوں نے دھر م کو سمجھا ہی نہیں۔یہ دھرم کانام ضرور لیتے ہیں مگر دھرم کو انھوں نے سمجھا ہی نہیں۔ہمارے دیش میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو دھرم وشیش سے جڑا ہوا بتاتے ہیں،کہ میرا تعلق اس دھرم سے ہے۔لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ جتنا زور سے بولتے ہیں۔اورجتنا فورس لگا کر کہتے ہیں کہ میرا دھرم یہ ہے۔میں اس کا فالوور ہوں تو سچ یہ ہے وہ اتنا ہی اس دھرم کے بارے میں کم جانتے ہیں۔وہ جانتے ہی نہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟وہ اپنی پسند ہی کو دھرم بنائے ہوئے ہیں۔یہ تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے دھرم کا سہا رالیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اپنی پسند کو اپنی سوچ کو ہی اپنا دھرم بنا لیاہے۔تو جب ان کی سوچ اور پسند سامنے آتی ہے تو نفرت اور گھڑنا پیدا کرتی ہے،جس سوچ کے ساتھ دھرم کی فکر اور دھارمک پرسنالیٹیز کے اصول جڑ جائیں گے ان کے دیے ہوئے پر وچن جڑ جائیں گے.جب کوئی چیزدھرم سے جڑجاتی ہے تو وہ چیز عظیم ہو جاتی ہے۔اوروہ چیز اچھی بھی ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر کسی زمین کاتعلق جب کسی دھرم سے جڑ جاتا ہے تو وہ دھارمک جگہ کہلاتی ہے۔کسی وستو کو اگر کسی کسی دھرم سے جوڑ دیا جائے تو وہ وستو دھارمک ہو جاتی ہے۔وہ چیز دوسری چیزوں کی طرح نہیں رہ جاتی وہ اور وستوؤں کی طرح نہیں رہ جاتی،اس کی عزت بڑھ جاتی ہے،اس کی قدر بڑھ جاتی ہے۔جب کوئی شخص واقعی میں اپنے آپ کو دھرم سے جوڑ دیتا ہے تو وہ دھارمک پرسنالیٹیز کہلاتی ہے۔اس کی عام لوگوں سے پوزیشن الگ ہوجاتی ہے۔دھرم سے جو چیز جڑ جاتی ہے تو وہ اچھی ہوجاتی ہے۔لیکن جب لو گ اپنی سوچ اوراپنی پسند کو اور اپنی فکر کو دھرم بنا کر لائیں گے وت وہاں سے خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔جہاں نفرت ہو وہاں دھرم نہیں۔

اینکر این۔ڈی، ٹی۔ وی

مولانا صاحب!ایک آخری سوال آپ بتا رہے تھے کہ جو چیز دھرم سے جڑ جاتی ہے وہ اچھی ہو جاتی ہے،لیکن کئی بار وہ دھرم سے نہ بھی جڑی ہوئی ہو۔تو دھرم بنا کر زبر دستی اچھا بنا کر دماغ میں بٹھا دیا جاتا ہے۔کہ یہی دھرم ہے۔اور آپ اس کے خلاف بہت بو لتے ہیں۔آپ نے کٹر واد کا بہت ورودھ کیا ہے۔اس کرونا کال میں اگر لوگ صحیح راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کٹر واد سے کیسے بچیں؟

سید محمد اشرف۔

میں نے وہی بات کہی ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنی پسند کو یا اپنی سمجھ سے دھرم کوسمجھنے کی کوشش کیاہے۔تو اسی کو انھوں نے دھرم بنانے کی کوشش کی ہے۔جس کی میں نے ہمیشہ مخالفت کی ہے۔اور میں نے کہا کہ وہابی ازم نے دھرم کو سمجھا ہی نہیں ہے۔وہ اسلام دھرم کو بنا سمجھے ہی یہ کہہ رہا ہے کہ میں اسلام کا فالوور ہوں۔اور سج چیز کو اسلام بناکرپیش کررہاہے،اس کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔اسلام کا فالوور وہ ہو گاجو ہمارے پروفٹ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ واللہ وہ مومن نہیں ہوسکتا،واللہ وہ مومن نہیں ہو سکتا،واللہ وہ مومن نہیں ہو سکتا۔جس کے شر سے ا س کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہو سلم نے یہ نہیں فرمایا کہ پڑوسی کون ہوگا؟مسلمان ہو گا کہ ہندو ہوگا،سکھ ہوگا کہ پارسی ہوگا،عیسائی ہوگا کہ یہودی ہوگا۔صرف یہ کہا کہ پڑوسی۔اور مسلمان کا پڑوسی تو پوری دنیامیں کوئی بھی ہو سکتاہے۔تو ہمارے رسول پاک نے تو یہ فرمادیا کہ وہ مومن نہیں ہوسکتا کہ جس کی زبان سے،جس کی ابت سے،جس کے شر سے اس کاپڑوسی محفوظ نہ ہو۔یہ ہے اسلام جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایاہے۔جو ہمارے معزز پروفٹ نے کہا ہے۔وہ اسلام جو قرآن کہتا ہے،وہ ہے اسلام۔کوئی ایک فرقہ،کوئی ایک گروہ،کوئی ایک گروپ کوئی ایک مخصوص سوچ،اور مکتب فکر کوئی ایک چیز بناکر اپنی طرف سے پیش کرتا ہے تو وہ اسلام نہیں ہے۔اسلام وہ ہے جو ہمارے پروفیٹ علیہ السلام نے کہا،اسلام وہ ہے جو قرآن نے کہا۔

اینکر این۔ڈی،ٹی وی

وہ تو جہاد کے نام پر بھی یواؤوں کو بھڑکاتے ہیں،وہ تو جہاد کو اسلام بتاتے ہیں۔

سید محمد اشرف

بے شک۔بے شک!اس کے خلاف میں نے ہمیشہ کہاہے کہ جہاد کسی کوقتل کرنے کانام نہیں ہے۔جہاد ظلم کرنے کانام نہیں ہے۔جہاد ظلم سے لڑنے کانام ہے۔اسی لیے صوفیا نے جہاد کو جہاد اکبر کہاہے۔اور وہ اپنے آپ سے لڑنے کانام ہے۔ہم اپنے نفس سے لڑیں۔یہ ہے جہاد اکبر۔ہمارے اندر جو برائیاں ہیں، ان سے لڑیں۔یہ ہے جہاد اکبر۔اپنے آپ کو بہتر بنانا یہ ہے جہاد اکبر۔اور جب اپنے آپ کو بنالیں تب ہم سماج کے سامنے جائیں۔اور اس کو اس کی برائیاں بتائیں تاکہ وہ بھی جہاد کرے اور اپنی برائیوں کو ختم کرکے جہاد اکبر کرے۔جہاد کا مطلب خون بہانا نہیں ہے۔جہاد کامطلب بے قصوروں کوقتل کرنا نہیں ہے۔اسے اسلام بتا نا اسلام پر بہت بڑاظلم ہے۔اور مسلمانوں کے اوپر بہت بڑاظلم ہے۔افسو س تو یہ ہے کہ مسلمان نام رکھ کر اسلام سے اپنا تعلق بتاتے ہوئے یہ ظلم دنیا بھر میں ہورہاہے۔اوردنیا دیکھ رہی ہے۔بہر حال ہم لوگ کوشش تو کررہے ہیں۔ہم اس کا کنڈم کرتے ہیں۔ہماراپورا صوفی گروپ اور آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈاور ورلڈ صوفی فورم منچ سے پچھلی ایک دہائی سے مخالفت کرتے رہے ہیں۔اور جب تک حیات ہیں اس کی مذمت کرتے رہیں گے۔

مولانا صاحب آپ نے بہت ہی خوبصورت باتیں کہی ہیں اور کرونا سنکٹ کال کے بعد دھرم کے ذریعے وہ بھی راستہ ہو سکتا ہے۔کہ ہم اپنے آپ کو بہتر بنائیں اور آس پاس کی دنیا کو خوبصورت بنائیں۔سب کے لیے ایک بہتر زندگی کا راستہ اختیار کرنے کا،ایک مکمل طریقہ ہو،آج آپ نے بتایا۔بہت بہت شکریہ۔مولانا صاحب ہمارے ساتھ جڑے رہنے کا۔(ختم شد)

ترتیب وپیش کش:

مولانا مقبول احمد سالک مصباحی
قومی ترجمان
آل انڈیا علماءومشائخ بورڈ، نئی دہلی

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
Translate »
Close